لال مسجد کا وحشی درندہ:
اسے کس کی پشت پناہی حاصل ہے؟لندن(جنگ نیوز) برطانوی اخبار ’’ٹیلی گراف‘‘ لکھتا ہے کہ لال مسجد اسلام آباد کے پیش امام مولانا عبدالعزیز ان خطرناک ترین افراد میں شامل ہیں جنہیں پولیس کی حراست میں ہونا چاہیے۔ سات سال قبل اس مسجد میں موجود القاعدہ کے مسلح دہشت گردوں اور سرکاری فورسز کے درمیان خون ریز معرکہ ہوا تھا جس میں 100 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ اس آپریشن میں مولانا عزیز کے بھائی اور بیٹا بھی مارے گئے تھے جس کے رد عمل میں پاکستان میں طالبان کے خودکش حملوں کی لہر چل نکلی۔ اب پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں سمجھتی ہیں کہ مولانا عبدالعزیز ایک نئی ملیشیا بنارہے ہیں، مدرسوں کے نام پر مزید زمینوں پرقبضہ کررہے ہیں اور ملک کو اسلامی قانون کے نفاذ پر مجبور کرنے کے لئے تیاری کررہے ہیں ، چشم دید گواہوں کے مطابق لال مسجد کے اندر کالعدم سپاہ صحابہ کے 30 سے 40 مسلح افراد موجود ہیں۔ یہ منظر ایک بار پھر یاد دہانی کراتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مغرب کا سب سے اہم اتحادی اپنے ہی دارالحکومت میں عسکریت پسندوں کے مسئلے سے دو چار ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں ایک پاکستانی عدالت نے مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے مگر پولیس اس وارنٹ پر عمل درآمد سے قاصر رہی۔ ڈیلی ٹیلی گراف نے ایک رپورٹ دیکھی ہے جس میں ایک سینئر انٹیلی جنس افسر کا بیان ہے کہ اس امر کے شواہد موجود ہیں کہ وہ اسلام آباد میں لال مسجد مافیا کے ایجنڈے کا احیاء کررہے ہیں ، پاکستانی طالبان اور لینڈ مافیا سے ان کے تعلقات امن وامان کے لئے خطرہ ہیں۔
افسر کے مطابق مولانا عبدالعزیز نے قبائلی علاقے میں دو طالبان رہنماؤں کی نگرانی میں غازی فورس کے نام سے ملیشیا ونگ بنایا تھا۔ مولانا عبدالعزیز کا مستقل اصرار ہے کہ لال مسجد میں کوئی مسلح فرد نہیں تھا جبکہ تصویری شواہد موجود ہیں، مسجد کی چھت پر مشین گنیں نصب تھیں اور فوجی آپریشن کے بعد مسجد سے چیچن، مصری اور افغانی سمیت 18مسلح جنگجوئوں کی لاشیں ملی تھیں۔ سانحہ پشاور کے بعد سے حکومت پاکستان نے اگرچہ بہت سے اہم اقدامات کئے ہیں، لیکن تمام تر شواہد کے باوجود مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کا امکان دور دور تک نظر نہیں آتا۔ ایک سرکاری افسر کا عذر ہے کہ ہم کوئی تیسرا محاذ نہیں کھولنا چاہتے، ہم ان کو کبھی بھی اٹھوا سکتے ہیں، لیکن ہم ابھی اسے گرفتار کرنا نہیں چاہتے کہ اس کے دہشت گرد خود کش حملے شروع کردیں اس افسر نے کہا کہ حکومت کی سب سے بڑی غلطی لال مسجد کی دوبارہ تعمیر اور مولانا عبدالعزیز کو وہاں تبلیغ کی اجازت دینا تھی۔
No comments:
Post a Comment