Saturday, January 9, 2016

لال مسجد میں طالبات کی ہلاکت کا جھوٹ بے نقاب ہوگیا

لال مسجد میں طالبات کی ہلاکت کا جھوٹ بے نقاب ہوگیا
اسلام آباد پولیس نے لال مسجد آپریشن آپریشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع  کرادی ہے جس کے مطابق آپریشن میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو تین تھی۔ ان میں 89 جنگجو، گیارہ سیکیورٹی اہلکار اور تین عام شہری تھے۔ ان میں کوئی بھی خاتون یا لڑکی شامل نہیں۔
جمعرات کو وفاقی دارالحکومت کی پولیس نےلال مسجد میں 2007 میں ہونے والے آپریشن سے متعلق ایک جامع رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عدالعزیز کی اہلیہ اُم حسان کوئی بھی ثبوت دینے میں ناکام رہی ہے جس میں اُس نے دعویٰ کیا تھا کہ جس وقت سکیورٹی فورسز نے مذکورہ مسجد پر کارروائی کی تھی اس وقت تین ہزار سے زائد طلبا اور طالبات مسجد اور مدرسے میں موجود تھے۔ یہ رپورٹ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کی طرف سے اس واقعہ سے متعلق عدالتی فیصلے کی روشنی میں جمع کروائی گئی ہے جس میں سپریم کورٹ کی جانب سے اس آپریشن سے متعلق ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
اگر عرفان صدیقی،  انصار عباسی، ڈاکٹر شاہد مسعود،  جماعت شیطانی کا فرید پراچہ، عبدالقادر حسن اور اوریا مقبول جان میں شرم وحیا اور غیرت کی معمولی سی رمق بھی باقی ہے تو چلو بھر پانی میں ڈوب مریں حامد میر نے بھی اپنے کالم میں لکھا کہ " میں نے لال مسجد انتظامیہ کے اقدامات کی کبھی حمایت نہیں کی لیکن جس انداز میں لال مسجد کے خلاف طاقت استعمال کی گئی، وہ قابل مذمت ہے "۔ اس طرح حامد میر نے بھی ظالم کے خلاف کھڑے ہونے والوں کی حوصلہ شکنی اور ظالم کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو روزانہ شام کو ٹی وی پر بیٹھ کر مسجد و مدرسے میں قران پڑھتی ہوئی بچیوں کی ہلاکت اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی کا واویلا کیا کرتے تھے۔کبھی انہیں فاسفورس میں جلاکر مارنے کی بات کرتے اور کبھی انکی لاشوں کو ملبے میں دکھانے کی ناکام کوششیں کرتے ۔
نواز حکومت میں ایک اہم ترین عہدے پر فائز قلم فروش صحافی پرمولوی  عبدالرشید کے مارے جانے پر جو قیامت ٹوٹی تھی اس کا ذکر اس نے بارہ جولائی 2007 کے نوائے وقت میں ایک کالم میں کیا تھا ۔ وہ لکھتا ہے؛
"  کسی دشمن سرزمین پر فاتحانہ آپریشن کے سے انداز میں لشکر کشی کی فنی جزئیات پر روشنی ڈالنے کے باوجود کوئی ترجمان یہ بتانے پر تیار نہیں کہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے صحن، برآمدوں ، کمروں ، راہداریوں میں کتنی لاشیں بکھری پڑی ہیں ؟ان میں کتنے بچے ہیں اور کتنی خواتین؟ سب کے ماتھوں پر 'دہشت گردوں ' کے لیبل سجا دیئے گئے ہیں ۔ کوئی نہیں جانتا کہ کس کا خون کس کے خون میں تحلیل ہوگیا؟کوئی نہیں جانتا کہ مقتولین کے ماں ، باپ، بھائی بہن کہاں ہیں اور کس کرب کی آگ میں جل رہے ہیں ؟ کوئی نہیں جانتاکہ 'آپریشن سائلنس' کی کوکھ سے کتنی قباحتیں جنم لیں گی؟ " اس طرح اس نے بھی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ جامعہ حفصہ میں خواتین ماری گئی تھیں۔
آج ہی جبکہ یہ رپورٹ جمع کرائی جاچکی ہے تو مسلم لیگ نون کے سینیٹر مشاہداللہ نے ایک بیان میں ڈاکٹر طاہر القادری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لال مسجد میں معصوم اور بے گناہ بچیوں کی لاشیں گرائی جا رہی تھیں تو اس وقت شیخ السلام کہاں تھے؟
کیا آج مشاہداللہ اور عرفان صدیقی میں اتنی  اخلاقی جراءت ہے کہ وہ اس پولیس رپورٹ کو ٹی وی اسکرین پر آ کر جھٹلا سکیں؟ کیا وہ اتنی اخلاقی جراءت رکھتے ہیں کہ وہ آج مشرف سے معافی مانگیں کہ انہوں نے ان پر غلط الزام لگائے تھے؟ ہرگز نہیں! یہ تو شریفوں کا شیوہ ہوتا ہے۔ بدقماشوں سے اسکی توقع ہرگز نہ رکھی جائے۔
اس کے ساتھ ہی وہ بے حیا ٹی وی اینکرز  اور ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والےبھی  جو ان بے شرموں کو اپنے پروگرام میں بلا کراور ان سے مشرف کو گالیاں دلواکر اپنے کسی سفلی جذبے کی تسکین کرتے تھے اگر کسی غیرتمند باپ کی اولاد ہیں تو اپنے ٹی وی اسکرین پر مشرف سے اور پوری قوم سے معافی مانگیں۔
ان سے بارہا سوال کیا گیا کہ اگر یہ دعوی درست ہے تو کسی ایک بچی کے وارث نے بھی عدالت میں پیش ہوکر اپنی بچی کی گمشدگی  یا اسکے ماردیئے جانے کا دعوی کیوں نہیں کیا؟ کیا یہ بچیاں جن کی ہلاکت اور انکی لاشں کی بے حرمتی کا دعوی یہ شیطان کے چیلے ٹی وی پر بیٹھ کر کرتے رہتے تھے لاوارث تھیں کہ کسی  ایک کی بھی رپورٹ تک نہیں لکھوائی گئی؟ لیکن یہ شیطان کبھی اس کا جواب نہ دے سکے ۔ یہ لوگ کسی ایک لڑکی یا خاتون کی قبر کی نشاندھی تک نہ کرسکے۔
آج پولیس کی یہ  رپورٹ ان  سب کے منہ پر طمانچہ ہے۔ لیکن اس طمانچے سے  بھی زوردار وہ طمانچہ ہے جو برقعے پہن کر فرار ہونے والا مولوی ہر وز داعش کو پاکستان پر چڑھائی کی دعوت دے کر ہمارے  مسخرے وزیر داخلہ اور کراچی میں آپریشن کے نام پر اپنے تعصب کی آ گ کو ٹھنڈا کرنے والےسیکیورٹی اداروں کے منہ پر مار رہا ہے ۔
جہاں تک بات ہے پولیس رپورٹ کی تو یہ ہرگز نہ بھولنا چاہئے کہ یہ پولیس رپوٹ تیار کرنے والے پرویز مشرف کے کسی بھی صورت میں حامی نہیں ہوسکتے کیونکہ اسٹبلشمنٹ بہرحال ایک معزول اور زیر عتاب پرویز مشرف کے حق میں کسی قسم کی جعلی یا غلط رپورٹ بنانے اور اسے سپریم کورٹ جیسے مؤقرترین ادارے کے روبرو پیش کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
لیکن اس پوری تحریر میں جو بات سب سے اہمیت کی حامل ہے وہ یہ کہ عرفان صدیقی اور مشاہد اللہ آج انتہائی اہم حکومتی عہدوں پر فائز ہیں اور عرفان صدیقی کی لال مسجد کے دہشتگرد مولوی سے ہمدردی بلکہ انتہائی عقیدت کو دیکھتے ہوئے یہ بات بلا تامل کہی جاسکتی ہے کہ موجودہ حکومت لال مسجد میں فروکش دہشتگرد کی ہر طرح سے معاون و مددگار ہے اور اس کام میں انتہائی اہم ریاستی ادارے بھی اسکے ساتھ ہیں۔ مسخرے وزیر داخلہ کے بیانات اور کراچی میں آپریشن کرنے والے اداروں کی جانب سے اس دہشتگرد کو مسلسل نظرانداز کرنے سے  ہمارے اس دعوے کی تایئد ہوتی ہے۔

No comments:

Post a Comment