لال مسجد کو کیوں نہیں ڈھایا جائے
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نےپشاور کے آرمی
پبلک اسکول میں ایک سو چالیس بچوں سمیت تقریبا ڈیڑھ سو انسانوں کو انتہائی وحشیانہ
طریقے سے قتل کردینے کے واقعے پر احتجاج کیلئے منعقد کی جانے والی ایک بہت بڑی ریلی
سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد کی لال مسجدکو مسجد ضرار قرار دیتے ہوئے اسے ڈھانے کا
مطالبہ کیا۔جناب الطاف حسین نے یہ مطالبہ عین اسلامی تعلیمات اور قرانی احکامات کے
مطابق کیا تھا کیونکہ یہ نبئی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان عالیشان کے عین مطابق
تھا کہ جس مسجدکو مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کیلئے تعمیر کیا گیا ہے اور یہ
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو پناہ دینے کیلئے استعمال ہورہی
ہےتاکہ وہ یہاں مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیا کریں تو اسے ڈھا دینا چاہئے۔اس مطالبےکوملک
بھر کے عوام کی طرف سے پذیرائی حاصل ہوئی لیکن کچھ ایسے لوگوں نے اس کی مخالفت میں
بیانات دیئے جو معاشرے میں اپنے آپ کو مذھبی رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان منافق
لوگوں نے نہ صرف اس طرح اللہ اور اسکے نبی
صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات سے روگردانی کی بلکہ اپنی آواز کو نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کی آوازسے بلند کرنے کی جسارت بھی کی۔
اسکی سزا کیا ہونا چاہئے؟ پہلے یہ دیکھئے کہ جناب الطاف حسین نے لال مسجد کو ڈھانے
کا مطالبہ کیوں کیا؟اس کے لئے قران کریم سے رجوع کرتے ہیں۔ سورت التوبہ کی آیات کریمہ ایک سو سات تا ایک سو دس میں اللہ جل شانہ نے منافقین کی بنائی ہوئی ایسی مسجد میں جناب نبئی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز قائم کرنے سے منع فرمادیا تھا جو مسلمانوں میں نفاق پیدا کرنے اور اس میں اللہ کے دشمنوں کو پناہ دینے کیلئے تعمیر کی گئی تھی تاکہ وہ وہاں مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر سکیں۔ قران میں اس مسجد کو مسجد ضرار کہا گیا ہے۔عربی میں لفظ ضرر اور ضرار نقصان پہنچانے کے معانی میں استعمال ہوتے ہیں تاہم ان میں فرق یہ ہے کہ ضرر ایسا نقصان ہے جس میں اپنافائدہ ہو اور دوسرے کونقصان پہنچے جب کہ ضرار ایسا نقصان ہےکہ جس میں نقصان پہنچانے والے کا اپنا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
سورت التوبہ کی آیت کریمہ ایک سو سات میں اس مسجد کی تعمیرکے تین مقاصد بیان کئے گئے ہیں پہلا یہ کہ
نقصان پہنچانا۔ دوسرا یہ کہ مسلمانوں کو دوحصوں میں تقسیم کردینا یعنی ایک جماعت مسلمانوں
کی اس مسجد میں نماز ادا کرنے والوں کی ہوجائے اور ایک جماعت وہ جو اس مسجد میں نماز
ادا نہ کرے۔اس طرح مسلمانوں میں تفرقہ ڈال دیا جائے۔تیسری غرض اس مسجد کے بنانے کی
قران کریم یہ بیان کرتا ہے کہ 'ارصادا لمن حارب اللہ' جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں اللہ
اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو پناہ ملے تاکہ وہ یہاں مسلمانوں کے
خلاف سازشیں کیا کریں۔ اب قاریئن فیصلہ کریں کہ یہ مسجد کیا ان ہی مقاصد کیلئے استعمال
نہیں ہورہی تھی جو مسجد ضرارکی تعمیر کے تھے؟ اس نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا، اس
نے مسلمانوں کو تفریق کرنے کی کوشش کی اوریہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
کے دشمنوں کو پناہ دیئے ہوئے تھی جو وہاںمسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ اس ہی آیت
کریمہ میں آگے چل کر یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ یعنی منافقین قسمیں کھایئں گے
کہ ہم نے تو بھلائی ہی چاہی تھی یعنی یہ مسجد بھلائی کیلئے بنائی تھی لیکن اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔
اور اب یہ بات کہ جو لوگ اس مطالبے کی مخالفت کررہے ہیں انکا
یہ عمل کیسا ہے! اس کے لئے بھی قران سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

تاریخ اسلام کا مشہور واقعہ ہے کہ دوافراد نبئی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم کے پاس اپنے جھگڑے کے فیصلے کیلئے حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچے
آدمی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا اس وہ اس فیصلے پر مطمئن نہ
ہوا(نعوذباللہ) اور وہ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے پاس جا پہنچا۔ حضرت ابوبکررضی اللہ
عنہ نے فرمایاکہ تمہارا فیصلہ وہی ہے جو الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔اس
نے اسے بھی تسلیم نہ کیا اور کہا ہم عمررضی اللہ عنہ کے پاس چلتے ہیں۔چنانچہ دونوں
حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے۔ جس کےحق میں فیصلہ ہوا تھا، اس نے کہاکہ ہم
پہلے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور پھر ابوبکررضی اللہ
عنہ کے یہاں۔ دونوں نے میرے حق میں فیصلہ صادر فرمایا ہے، مگر میرا ساتھی نہیں مانتا۔حضرت
عمررضی اللہ عنہ نے دوسرےشخص سے پوچھا تو اس نے بھی واقعہ اسی طرح دہرایا۔ حضرت عمررضی
اللہ عنہ گھر کے اندر گئے، تلوار لے کر باہر آئے اور انکارکرنے والے شخص کاسرقلم کر
دیا۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جسے نبئی کریم کا فیصلہ منظور نہیں اس کا فیصلہ عمر(رضی اللہ تعالی
عنہ)کی تلوار کرے گی۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ
سے اختلاف کی سزا کیاہے۔
No comments:
Post a Comment