Tuesday, January 20, 2015

لال مسجد کے عفریت کو عوام کے قہر و غضب سے بچانے کی حکومتی کوششیں

آج پشاور کے دلخراش سانحے کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے۔ ان تیس بتیس دنوں میں افواج  پاکستان تو شیطانی گروہوں پرعذاب بن کر ٹوٹی ہیں اور انکو راہ اختیار کرنے کی مہلت نہیں دی ہے لیکن ہماری حکومت کی طرف سے کوئی ایسی پیش رفت نہیں نظرآئی جو اپنے جگر گوشوں سے محروم ہوجانے والی ماؤں کے زخم زخم دلوں کیلئے تسکین قلب کا کچھ سامان مہیا کر سکتی۔ کچھ خبیث پہلےجہنم رسید ہوکراپنے اعمال کی دنیاوی سزایئں پاچکے ہیں جبکہ حساس اداروں کی تنصیبات پر حملے میں ملوث مجرموں اور مارکیٹوں، عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں پر حملوں اوربے شمارانسانی جانوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دینے والے کئی مجرموں کو دی جانے والی موت کی سزائیں ڈیتھ وارنٹ جاری نہ ہونے کے باعث موخر کر دی گیئں۔ ادھر پشاور سانحے کے بعد قائم کیجانے والی کمیٹی کے اجلاس پر اجلاس ہورہےہیں لیکن عوام کو ابھی تک ایسا کچھ نظر نہیں آیا کہ وہ اطمینان کا سانس لے سکیں۔ اس کے بجائے لال مسجد کے بڑے شیطان کوسول سوسایئٹی کے بھرپور احتجاج کے باوجود مقدمہ قائم کرنے کے بعد بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور اب اسے عوام کے قہر وغضب سے بچانے کیلئے پوری نواز انتظامیہ میدان میں اتری ہوئی ہے۔



کل یعنی انیس جنوری کے اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے رٹ آف دی اسٹیٹ تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے اور ایک پر امن اورقانون پسند شہری کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔ خبر کےمطابق وزیر داخلہ چوھدری نثار علی خان کی ہدایت پر پولیس حکام نے مولانا عبدالعزیز سے ملاقات کرکے اسے امن پسند شہری کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی پیشکش کی جسکے جواب میں عبدالعزیز نے بیس برسوں میں پہلی بار اپنے دستخطوں سے حکومت کو ایک تحریری یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پاکستان کے آیئن اور قانون کو تسلیم کرتا ہے اور اس پر مکمل عملدرآمد کی پابندی  کرے گا۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ایک ایسے مجرم کو جو کھلے عام آیئن اور قانون کو ماننے سے انکار کرتا رہا، ریاست کی عملداری کو چیلنج کرتا رہا، مسلح لشکر تشکیل دے کر اور ریاست کے قلب میں بیٹھ کر ریاست کے خلاف جنگ میں مصروف رہا آخر اسے گرفتار کرنے کے بجائے اس سے معاہدے کیوں ہورہے ہیں؟۔ اگر یہ سب کچھ ٹھیک ہے تو ملک بھر میں تمام مجرموں سے ایسے ہی معاہدے کرکے انہیں رہائی کے پروانے عطا کردیئے جایئں۔ عوام یہ بھی پوچھتے ہیں کہ مجرم کو معاف کرنے کا اختیار حکومت کو کس نے دیا؟ کیا حکومت کسی باغی کو، قاتل کو معاف کرنے کا اختیار رکھتی ہے؟ کیا یہ ملک کسی کی ذاتی ملکیت اور اسکے عوام اپنی جان ومال، عزت وآبروسمیت کسی مخصوص خانوادے کے ذاتی غلام ہیں جنہیں جنگوں میںمالغنمیت کے طور پر حاصل کیا گیا تھا،   اور ان غلاموں کی کوئی مرضی، کوئی رضا نہیں ہوتی؟
اگر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والا غدار نہیں ہے توپاکستان کو بچانے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والے پرویز مشرف کو غداری کے مقدمے کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟ 
 لیکن کیا حکومت پاکستان عوام کو اتنا ہی بے وقوف سمجھتی ہے کہ وہ ایسی باتوں کا مطلب نہیں سمجھتے؟ یہ حکومت کی بھول ہے اور عوام جانتے ہیں کہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایک مجرم کو قانون کی گرفت سے اور عوام کے غیض وغضب سے بچایا جاسکے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب تک عبدالعزیز نے جو جرائم کئے ہیں کیا وہ اس بات پر معاف کردیئے جایئنگے کہ اس نے آیئندہ پر امن رہنے کا وعدہ کیا ہے؟

پاکستان میں دہشتگردوں کے سہولت کار اور دہشتگردی کا اڈہ چلانے والے نام نہاد جعلی مولوی عبدالعزیز نےاپنے ایک ویڈیو پیغام میں قائد تحریک جناب الطاف حسین کوقتل کی کھلی دھمکیاں دی تھیں۔ معاف کرنے کا اختیار اگر کسی کے پاس ہے تو وہ الطاف حسین ہو سکتے ہیں۔ لیکن وہ بھی اکیلے اسے معاف نہیں کرسکتے ۔ یہ موذی تو لال مسجد آپریشن میں کتنے ہی لوگوں کے قتل کا ذمہ دار ہے۔ کیا وہاں قتل ہونے والے لوگوں کے لواحقین نے اسے معاف کیا ہے؟ اگر نہیں تو پھر حکومت کس طرح اسے معاف کر سکتی ہے!

No comments:

Post a Comment